اپنے بن کر کیوں یوں دور ہو گئےکیوں اتنا ڈھایا ستم ہم دل کے آگے مجبور ہو گئے
کورس تھی وہ میری خطا کے ہم نے تمھیں اپنا جانا
تم تو قریب ہوکر بھی ركيب بن گئے
ہم ہر کچھ کھو کر تجھے پایا تھا
ان انجان رستے پہ چھوڑ کے کیوں کھو گئے
دل دے کر ہم نے درد کے سوا کچھ نہ پایا
ہم اپنے ہی رستے مجبور ہو گئے
جب بھی تو نے درد دیا یاد آتی ہے ماں
اشكے بھی میری تیرے بے درد دل کو نہیں سہما پاتا
کبھی بھی تیرے ستم پہ مجھے اپنی خطا سمجھ نہ آئی
آج تم کیوں ان سگدل ہو گئے
میری نگاہیں تمہیں کیوں آج تک سمجھ نہ پائی
جسے میں نے کبھی فرشتے کے طور دیکھا
ہر غم سے دور رکھنے والے طور دیکھا
آج ایسے کیوں بیگانے بن گئے!!
No comments:
Post a Comment