نہ چاہ کر بھی کبھی مسكرانا پڑتا ہے
اشكو کو چھپا کر بھی هسنا پڑتا ہے
زندگی اسی کا نام ہے جہاں ہمیشہ آگے ہوتا ہے
جو آگے نہ بڑھ پائے وہ زندگی کے دور میں پچھے رہ جاتا ہے
زندگی جینے کے لئے ہر قدم حاصل کر آگے بڑھنا پڑتا ہے
اس بھیڑ میں کہیں اکیلی نہ رہ جاؤں یہ سوچ کر
کبھی كھاموشو سے بہار نکلتی ہوں
درد کو بھلا کر اب خوش ہونا چاہتی ہوں،
خوشی میں وہ یادیں کیوں آتی ہیں جو دل کو سہما جاتی ہے
اب اور نہیں وہ پل یاد کرنا چاہتی ہوں
زندگی کے وہ صفحات سے کہیں دور ہو جاؤں
بس اب اور نہیں مڈ کر دیکھنا چاہتی ہوں
چاهتو کی دنیا تو ہر کوئی بساتا ہے
اب ان چاهتو کو کہیں کھو دینا چاہتی ہوں
No comments:
Post a Comment