Wednesday, 7 August 2013

ماں ماں اور ماں ....


ہر رشتے کی گهرايا دےكھ ہم نے
ہر رشتے کو قریب سے جانا ہم نے
جو کھو کر بھی کھو نہ پائے وہ ماں دےكھ ہم نے
وہ رشتے کی اهمت کوئی اور رشتے میں نہ دےكھ ہم نے
سب کچھ کھو دیا پیر ماں سا کوئی رشتہ نہ پایا
ماں کے رشتے سا کوئی دوسرا رشتہ نہ پایا ہم نے
گر چننا ہو تمہے سارا جمن اور ایک طرف ہو ماں
میں بس یہی کہوں گی صرف چننا ماں ماں اور ماں
اس اهمت ہر خوشی قربان کر کے جانی ہے ہم نے
یہ قیمتی رشتے کو کھو کر ہر کچھ بیرنگ پائی ہے ہم نے
بڑی نادان تھی میں جو اس رشتے کو کبھی سمجھ نہ پائی
جب سمجھی تو بہت دور پایا خود کو ہم
ہر خوشی تیرے بغیر ادھوری ہے ماں
خوش ہو کر بھی تیرے بغیر خوش ہوتی ہوں ماں
تیرا وجود اب سب کچھ کھو کر جانا ہے ہم نے

No comments:

Post a Comment