انجاني گلیوں سے خوش ہو کر جب ہم گزرتے گئے
سارے کارواں سنگ ہوتے گئے، خوشی ہی نظر آئی ہمیں
اچانک یہ اندھیرے بادل کہاں سے آ گئے
بن موسم میں درد والے بادل کہاں سے چھا گئے
ہر خوشی میں اس کی جگہ ہو ضروری تو نہیں ہوتا
پھر وہ ہماری انجاني سی خوشی کہاں کھو گئے
No comments:
Post a Comment