وہ بچپن کے دن اور وہ پرانے دوست
ان چیزوں پہ اپنا حق جمانا
تیرا میرا کیا ہوتا ہے کیا تھا معلوم
وہ بچپن کے دن اور پرانے دوست
ساتھ وہ کھیتوں میں کھیلنا
گندے نالوں میں پتھر مارنا
انجاني گلیوں میں کھیلنا
وہ بچپن کے دن اور وہ پرنے دوست
بارش طوفان سرديا تمام میں مستی کرنا
موسم کی نہ ہوتی تھی کوئی رکاوٹیں
درخت کے پتوں اور ہواؤں کے جھوكو میں فلائی
وہ بچپن کے دن اور وہ پرانے دوست
کاش آج بھی وہ ہم ساتھ ہوتے
نہ ہوتی کوئی پریشانیوں کی سكن ماتھے پہ
چھوٹی سی خوشی میں دن بٹ جاتے
وہ بچپن کے دن اور وہ پرانے دوست
No comments:
Post a Comment