خدا تو تو ہر کچھ جانتا ہے کہاں ہوئی خطا مجھ سے
پھر تو نے کیوں نہ روکا مجھے ان خطاؤں سے
آج میں روو بھی تو آنکھوں کے اشک کون پوچچےگا
پل پل میں اتفاق اور گھٹتي رہتی اسے کون روکے گا
خطا تو ہم انسان سے ہوتی ہے لیکن راستہ تو تهي دکھائے گا
اب تو بكش دے مجھے میری خطاؤں سے
مجھے میرے دل کو چین دے دے اب ان اشكو سے
رستے تو سنے ہیں اب اکیلا سرے دے ان تنهايو سے
کاش کوئی تو دیتا سر پہ ہاتھ
خدا تو نے تو محروم کر دیا اب مجھے میری ماں کے آنچل سے!!!!
پھر تو نے کیوں نہ روکا مجھے ان خطاؤں سے
آج میں روو بھی تو آنکھوں کے اشک کون پوچچےگا
پل پل میں اتفاق اور گھٹتي رہتی اسے کون روکے گا
خطا تو ہم انسان سے ہوتی ہے لیکن راستہ تو تهي دکھائے گا
اب تو بكش دے مجھے میری خطاؤں سے
مجھے میرے دل کو چین دے دے اب ان اشكو سے
رستے تو سنے ہیں اب اکیلا سرے دے ان تنهايو سے
کاش کوئی تو دیتا سر پہ ہاتھ
خدا تو نے تو محروم کر دیا اب مجھے میری ماں کے آنچل سے!!!!
No comments:
Post a Comment